لاہور (نیوز ڈیسک)کوئی پوچھے تو کہنا خان آیا تھا موجودہ دورہ امریکا میں وزیراعظم عمران خان کے سٹائل پر فٹ جملہ لگتا ہے۔عمران خان کا حال ایساہی ہے کہ جہاں بھی جاتے ہیں داستان چھوڑ آتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی آمد کے خوب چرچے رہتے ہیں۔ پاکستان میں تو ملاقات کی پذیرائی ہوئی ہی ہے مگر انڈیا میں تو جیسے کہرام برپا ہے اور مودی حکومت پر ہر طرف سے تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں۔جبکہ امریکہ میں وزیراعظم عمران خان کے حق میں قراردادیں پیش کی جا رہی ہیں۔یہ پہلی بار ہے کہ کسی پاکستان کےوزیراعظم کے احترام میں امریکا میں اتنا کچھ ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا پر امریکی ایوان نمایندگان میں قرارداد پیش کی گئی۔جس میں عمران خان کو بہادر اور ایمان دار قرار دیا گیا۔ امریکی ایوان نمایندگان کے رکن جیکسن لی نے ایوان میں قرارداد پیش کی جس میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا کا خیر مقدم کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان میں کرپشن اور غربت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں خارجہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، قرارداد میں افغان امن عمل میں وزیر اعظم عمران خان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جانی و مالی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔کہا گیا کہ عمران خان نے قبائلی علاقوں میں پہلی بار حکومتی عمل داری قائم کی، پاکستان میں صورت حال میں بہتری سے بیرونی سرمایہ کاری واپس آ رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی شکل میں پاکستان کو بہادر اور ایمان دار قیادت میسر آئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے امریکا میں پاکستان کو جس اعتماد اور دانش مندی سے پیش کیا، اس نے ملک بھر میں پی ٹی آئی قیادت کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔آج وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ امریکا سے متعلق کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے پاکستان کہاں تھا یہ جاننا ہوگا، 5 سال سے پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا، 6 سال سے امریکا میں لابنگ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سے قبل کا پاکستان تنہائی کا شکار ملک تھا، افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات پروان چڑھ رہے تھے، پاکستان کی آئسولیشن کو ہم نے وائٹ ہائوس کے دعوت نامے میں تبدیل کر دیالہٰذا ہمیں عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب دیکھنے والوں کے سپنے چور چور ہو گئے۔

Sharing is caring!