اسلام آباد (ویب ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کا پی اوایف واہ اورہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کادورہ، شعبہ ریسرچ اورڈویلپمنٹ کی کامیابیوں کی تعریف، دفاعی اورسکیورٹی آلات کے معیار کی تعریف کی ۔آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی اوایف واہ کادورہ کیا اور یوریافارمولیڈہائیڈمولڈنگ کمپاونڈ کا افتتاح کیا۔

آرمی چیف کی پی اوایف کے شعبہ ریسرچ اورڈویلپمنٹ کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پی اوایف متحرک حکمت عملی سے مشترکہ منصوبوں کیلئے اقدامات کرے، حکمت عملی سے بنائی جانےوالی مصنوعات میں بہتری آئےگی۔آرمی چیف نے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلاکابھی دورہ کیا اور ٹینکوں کومزیدجدیدبنانے سے متعلق شعبوں کادورہ کیا۔ انہوں نے پی اوایف اورایچ آئی ٹی کے بین الاقوامی معیاراورمصنوعات کوسراہا ۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فیکٹریزمیں بننے والے آلات سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہورہاہے، دونوں اداروں کی وجہ سے قومی بچت بھی ہورہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کیلئے مسلح افواج کا سربراہ مقرر کردیا ہے اور مدت ملازمت میں یہ توسیع 29 نومبر 2019 سے شروع ہوکر 30 نومبر 2022 کو ختم ہوگی ۔ اس دوران پاکستان آرمی کے بیس لیفٹنٹ جنرلز اپنی مدت ملازمت بھی مختلف تاریخوں پر پوری کرچکے ہوں گے۔ ان 20؍لیفٹنٹ جنرلز میں سے 19؍ کو جنرل باجوہ کے نومبر 2016 میں آرمی چیف بننے کے بعد لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر چار سال کیلئے مختلف تاریخوں پر ترقی دی گئی۔ اگلے تین سال میں ریٹائر ہونے والے لیفٹنٹ جنرلز میں سب سے پہلا نام لیفٹنٹ جنرل سرفراز ستار کا ہے جنہیں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ستمبر 2016 میں لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی لیفٹنٹ جنرل سرفراز ستار نے PMA70 لانگ کورس آرمڈ کور میں 06-09-84 کو کمیشن حاصل کیا جبکہ انکی سینارٹی 13-09-83 سے شمار ہوتی ہے اور بطور لیفٹنٹ جنرل ستمبر 2020 تک ملازمت باقی ہے ۔

Sharing is caring!