لاہور ( ویب ڈیسک ) پاکستان کے سابق صدر و شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہیں اور انھیں منی لانڈرنگ ، کرپشن سمیت اختیارات کے ناجائز استعمالات جیسے الزامات کا بھی سامنا ہے ۔ آصف علی زرداری کی دوست نواز پالیسی اور کرپشن کہانی کی حقیقت زبان زدِ عا م ہے ۔ آصف علی زرداری کی اس


پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوۓ تجزیہ نگار احتشام الحق نے نجی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کی اور کہا کہ ” زرداری صاحب کےبارے میں جو باتیں ہوتی ہیں کہ وہ بیمار ہیں ، انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، ایسے تو نواز شریف صاحب بھی بہت بیمار ہیں بہت سے حوالوں سے ۔ لیکن زردار ی صاحب کے جو دوست ہیں انکا کہنا ہے کہ دوستوں کو انھوں نے بہت نوازا ہے جبکہ نوازشریف صاحب نے صر ف اپنی فیملی ممبران کو نوازا ہے۔ اب زردار ی صاحب کے دوستوں کی کوشش ہے کہ اپنے دوست کو کچھ لے دے کر بچا لیا جائے لیکن آصف علی زرداری تو آن ریکارڈ ہیں کہ جب ان سے حامدمیر نے پوچھا کہ ” سنا ہے کہ آپ 7 بلین ڈالر دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں “تو انھوں نے جواب دیا کہ ” میں 7 ڈالر نہ دوں انکو ، آپ 7 بلین ڈالر کی بات کر رہے ہیں ۔ ” اسی طرح ان سے جب پوچھا گیا کہ ” زرداری صاحب آپ پیسے دے رہے ہیں ؟ ” تو انھوں نے غصے سے کہا کہ ” پیسے کیا درختوں سے لگتے ہیں جو میں انکو دے دوں ” ۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری صاحب تھوڑی دیر بعد خود ہی پیسے دے دیں گے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت صرف وقت ضائع کر رہی ہے ،انھیں کوئی پیسہ نہیں ملنا زرداری صاحب سے ۔ اسی طرح مریم نواز نے بھی پہلے دعوی کیاتھا کہ میری بیرون ملک میں کیا، پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے۔لیکن اب انھوں نے 1 ارب روپیہ ڈیکلئر کیا ہے ۔ اب آنے والے دن ہی بتائیں گے کہ نواز ، زرادری خاندان کیا کرنا چاہتا ہے ۔ اب یہ بھی ایک خبر ہے کہ ان سے نیچے جو لوگ ہیں وہ بھی اب پریشان ہیں کہ انکا کیا بنے گا ؟ اسی طرح میں شیخ رشید سے بھی ملنے گیا تھا جب وہ کلاشنکوف کیس میں بہاولپور جیل میں 3 سال گرفتار رہے ۔ تو وہ بھی تب یہی کہتے تھے میں جب بھی رات سوتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ صبح اٹھ کر پیپلز پارٹی سے معاملات ے کروں گا لیکن صبح اٹھ کر سوچتا تھا کہ میراسیاسی کیرئیر کا کیا بنے گا ؟ میری تو سیاست چلی جائیگی ۔ ہر طرف مورثی سیاست چل رہی ہے۔ اسفند یار ولی سے لیکر فضل الرحمن تک اور نواز شریف سے لیکر آصف علی زرداری تک ۔ میرا خیال ہےکہ کیسز کو اپنے حتمی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن شفافیت کیساتھ ہونا چاہیے تا کہ یہ بدلے کا عنصر کہیں بھی نظر نہ آئے۔ نیب لاء میں ترامیم کی حقیقتا ضرورت ہے جس کا نیب چئیرمین بھی نوٹس لے رہے ہیں ۔ ”

Sharing is caring!